Fatwa: # 44879
Category: Jurisprudence and Rulings...
Country:
Date: 3rd May 2020

Title

Can a woman lead an all women Jamaat in the home for Taraweeh?

Question

Assalamualaykum Mufti Saheb 

I was just wondering if a woman could lead an all women Jamaat in the home for taraweeh if she is a Hafiza?

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

There are two views in our madhab regarding a woman leading other women in prayer:

1. The default position is that it is prohibitively disliked [makrūh tahrīmī] for a woman to lead an all-women congregation, even though the prayer will be valid.

2. The second view is that it is permissible for a woman to lead a few women in prayer at home as long as there is no fear of fitnah.

The view of permissibility is held by a number of Hanafi research scholars [muhaqqiqīn] including: Badr al-Dīn Mahmūd al-‘Aynī [i], Kamāl al-Dīn Ibn al-Humām [ii], Mullā ‘Alī al-Qārī [iii] and Abd al-Hayy al-Laknawī [iv].

Consequently, the following contemporary Hanafi scholars have permitted a hāfidhah to lead an all-women tarāwīh congregation at home subject to certain conditions: Nizāmuddīn A‘zamī [v], Muhammad Salmān Mansūrpūri [vi], Shabbīr Ahmad Qāsmi [vii], Khālid Saifullah Rahmāni [viii] and Radā al-Haqq [ix].

Taking the above into account, there is scope for a hāfidhah to lead an all-women tarāwīh congregation at her home. This permission is subject to the following conditions: there is no fear of fitnah, the number of female congregants are kept to a bare minimum, the hāfidhah Imām stands in the middle of the row of the female congregants and not in front of them as a male Imām would, she keeps her voice moderate and not loud, and she leads solely with the intention of keeping her Quran committed to memory.

And Allah Ta’āla Knows Best,

Sohail ibn Arif,
Assistant, Darul Iftaa
Chicago, USA

Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.

 

[i] الثالث: قول المصنف في كراهته جماعة النساء: م: (لأنها لا تخلو عن ارتكاب المحرم وهو قيام الإمام وسط الصف) ش: فكيف يكون قيام الإمام وسطهن محرما، وقد فعلته عائشة وأم سلمة، وروي عن ابن عباس - رضي الله عنه - على ما ذكرناه الآن، وأيضا فلقائل أن يقول: ارتكاب المحرم فيه في حق الرجال دون النساء، إذ لو كان مطلقا لما كان يجوز الصلاة.الرابع: قوله: م: (فيكره) ش: يعني إذا كان الأمر كذلك يكره فعلهن الجماعة وكيف يكره، وقد ذكر في  المحلى: صلت عائشة بهن المغرب جهرت بالقراءة، وصلت أم سلمة العصر...قلت: هذا كله مخدوش، أما قوله: لو كانت جماعتهن مشروعة كره تركها، فغير سديد؛ لأنه لا يلزم من كون الشيء مشروعا أن يكره تركه؛ لأن هذا ليس بكلي، فإن المشروع إذا كان فرضا يكون تركه حراما، وإن سنة يكون تركه مكروها، وإن كان ندبا يجوز تركه ولا يكره.(البناية شرح الهداية، كتاب الصلاة، باب في الإمامة: ٢/ ٣٣٦ و ٣٣٩؛ العلمية)

[ii] وبتقدير التسليم فإنما يفيد نسخ السنية، وهو لا يستلزم ثبوت كراهة التحريم في الفعل بل التنزيه ومرجعها إلى خلاف الأولى، ولا علينا أن نذهب إلى ذلك فإن المقصود اتباع الحق حيث كان.
(فتح القدير، كتاب الصلاة، باب الإمامة: ١/ ٣٥٤؛ دار الفكر)

[iii] قال في شرح المجمع: فعلنا كذلك حين كانت جماعتهن مستحبة، ثم نسخ الاستحباب، أقول: الأظهر أن الكراهة محمولة على ظهورهن وخروجهن ، والجواز على تسترهن في بيوتهن.
(فتح باب العناية في شرح كتاب النقاية، كتاب الصلاة: ١/ ٢٨٠؛ العلمية)

[iv] وعللوه بأنها لا يخلو عن ارتكاب ممنوع، وهو قيام الإمام وسط الصف، ولا يخفى ضعفه، بل ضعف جميع ما وجهوا به الكراهة كما حققناه في تحفة النبلاء ألفناها في مسألة جماعة النساء. وذكرنا هناك أن الحق عدم الكراهة، كيف لا؟ وقد أمّت بهنّ أم سلمة وعائشة في التراويح، وفي الفرض، كما أخرجه ابن أبي شيبة وغيره، وأمّت أم ورقة في عهد النبي صلى الله عليه وسلم بأمره، كما أخرجه أبو داود.
(غاية العناية على عمدة الرعاية، كتاب الصلاة: ص. ٧٢١) 

 

فغاية ما في الباب أن تكون جماعتهن خلاف الأولى نظرا إلي ظاهر ما يفيده حديث أبي داود، وابن خزيمة، وغيرهم، وهو أمر آخر...فهذا القدر ينفي الكراهة التحريمية،...والذي يظهر أن الحكم بالكراهة لا سيما بالتحريمية من تخريجات المشايخ على حسب أفهامهم ومزعوماتهم لا من كلام أئمتهم.
(مجموع رسائل اللكنوي، تحفة النبلاء في جماعة النساء، ٥/ ٢١٣ - ٢٣٧؛ إدارة القران والعلوم الإسلامية)

 

(مجموعة الفتاوى، كتاب الصلاة: ١/ ٢١٦ - ٢١٧؛ ايج ايم سعيد كمبني)

[v] خلاصہ جواب حسب فقہ حنفی: اگر ماہِ رمضان میں حافظہ قرآن عورتوں کی چھوٹی جماعت جس میں آواز معتاد کے اندر اندر ہے اور تمام قیود وشرائط کے اندر رہے اور عورت صف سے صر ف چار انگل آگے رہے تو الامور بمقاصد ہا کے تحت یہ فعل جائز رہے گا۔
 اگر ماہ رمضان مبارک میں صرف دو ،دو، تین تین عورتوں کی جماعت جو محض بہ نیت ِحفظ ِقرآن پاک اور بطور دَور ہوتو اور قیود وشرائط کے موافق ہو اور مکان محفوظ کے اندر ہو جس میں آواز اپنی معتاد آواز سے زائد نہ رہے تو بلا شبہ جائز رہے گی بلکہ الأمور بمقاصد ہا کے تحت مستحسن بھی ہوسکتی ہے۔
(نظام الفتاوى، ٦/ ٧٢ – ٧٦)

البتہ اگر حافظہ عورت اپنا قرآن یاد رکھنے کی غرض سے تراویح میں عورتوں کی امامت کرے تو بعض آثار [vi]

 سے  اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، اس صورت میں وہ درمیان صف میں کھڑی ہوگی، مردوں کی طرح صف سے آگے نہ بڑھے گی۔
(كتاب النوازل، كتاب الصلاة: ٥/ ٩٦ - ٩٨؛ المركز العلمي للنشر والتحقيق)

 لیکن امام محمد علیہ الرحمہ نے ’’کتاب الآثار‘‘ میں حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے رمضان میں  [vii]

تراویح میں عورتوں کی امامت کرنے کی روایت کے ذریعہ سے استدلال کرکے امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کا قول نقل فرمایا ہے کہ جب عورت دوسری عورتوں کی امام بنے تو صف کے بیچ میں کھڑی ہوجائے ، مردوں کی جماعت کی طرح تنہا آگے کھڑی نہ ہو، اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ تراویح کی نماز میں عورت کی امامت اگرچہ خلاف اولیٰ ہے؛ لیکن بغیر کراہت تحریمی کے تراویح کے اندر درست ہوجاتی ہے اور فقہاء نے جو عورت کی امامت کو مطلقاً مکروہ تحریمی لکھا ہے وہ فرض نمازوں کی امامت پر محمول ہوگا اور بعض فقہاء نے ’’ولو فی التراویح‘‘ کی بھی قید لگائی ہے؛ لیکن حضرت عائشہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا کی امامت کی روایت کے ہوتے ہوئے کراہت تحریمی کا حکم لگانا ہم کو سمجھ میں نہیں آتا؛ اس لئے فقہاء کی ان تصریحات کے مقابلہ میں حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کے عمل کی روایت کو ترجیح ہونی چاہئے؛ لہٰذا جو خاتون حافظ قرآن ہوں گھر اور خاندان کی عورتوں کی تراویح میں صف کے درمیان میں کھڑی ہوکر امامت کرے، تو اس میں شدت   نہیں ہونی چاہئے۔ اور تراویح میں قرآن سنانا قرآن کریم کے یاد ہونے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
 (فتاوى قاسمية، كتاب الصلاة: ٨/ ٤١٤ - ٤١٧؛ مكتبة اشرفية)

قرآن و حدیث سے تو ایسی کوئی صراحت نہیں ملتی ہے کہ عورتوں کی جماعت اور ان میں کسی [viii]
 خاتون ہی کی امامت سے منع کیاگیا ہو ، بلکہ بعض روایات سے عورتوں کی امامت کرنا معلوم ہوتا ہے...آپ نے جو صورت تحریر کی ہے اس میں چونکہ قرآن کے ضائع ہوجانے اور خواتین کے حفظ کرنے کے بعد پھر بھول جانے کا اندیشہ ہے اور نماز اور قرآن کے لئے ترغیب کا باعث بھی ہوسکتا ہے ، اس لئے کوئی ایسا مکان ہو جس میں پردہ کا پورا پورا اہتمام ہو ، صرف اس گھر یا قریب کے گھروں کی عورتیں جمع ہوجائیں ، اجنبی اور غیر محرم مردوں کی اس طرف آمد نہ ہو اور بظاہر فتنہ و معصیت کا اندیشہ نہیں ہو ، تو نماز پڑھ لی جاسکتی  ، اس صورت میں امام کا طریقہ یہ ہے کہ امام آگے کھڑی ہونے کے بجائے صف کے وسط میں کھڑی ہو

اس لئے اگر گھر کی خواتین یا پڑوس کی خواتین ایسے محفوظ گھر میں جمع ہوجائیں جہاں پردہ کا پورا اہتمام ہو اور دور سے آنا نہ پڑے ، نیز امامت کرنے والی حافظہ خاتون قرآن ایسی معتدل آواز میں پڑھے کہ آواز نماز میں شریک ہونے والی خواتین تک محدود رہے ، غیر محرموں تک نہ پہنچے ، تو اس کی گنجائش ہے ، البتہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی روایت کے مطابق خواتین امامت کرتے ہوئے صف کے بیچ میں ہی       کھڑی ہوں گی ، نہ کہ صف کے آگے
(
كتاب الفتاوى، كتاب الصلاة: ٢/ ٣٩٨ - ٤٠٠ و ٤١٦ - ٤١٨؛ زمزم ببلشرز)

[ix] لیکن آج کل ضرورت کی وجہ سے مثلا حافظہ کو  قران یاد رکھنا ہۓ تو  گھر کی عورتیں یا چند عورتیں یا حافظات جمع ہو کر جماعت کریں تو بلا کراہت جائز ہونا چاہئے، ہاں فتنہ وغیرہ کا اندیشہ ہو تو مکروہ ہۓ. 
(فتاوى دار العلوم زكريا، كتاب الصلاة: ٢/ ٣٠٤ - ٣٠٨؛ زمزم ببلشرز)    

 

 

 

DISCLAIMER - AskImam.org questions
AskImam.org answers issues pertaining to Shar'ah. Thereafter, these questions and answers are placed for public view on www.askimam.org for educational purposes. However, many of these answers are unique to a particular scenario and cannot be taken as a basis to establish a ruling in another situation or another environment. Askimam.org bears no responsibility with regards to these questions being used out of their intended context.
  • The Shar's ruling herein given is based specifically on the question posed and should be read in conjunction with the question.
  • AskImam.org bears no responsibility to any party who may or may not act on this answer and is being hereby exempted from loss or damage howsoever caused.
  • This answer may not be used as evidence in any Court of Law without prior written consent of AskImam.org.
  • Any or all links provided in our emails, answers and articles are restricted to the specific material being cited. Such referencing should not be taken as an endorsement of other contents of that website.
The Messenger of Allah said, "When Allah wishes good for someone, He bestows upon him the understanding of Deen."
[Al-Bukhari and Muslim]